اہل ہندوستان کے عقائد مہا بھارت ہندوؤں کی ایک مستند کتاب

 


اہل ہندوستان کے عقائد  مہا بھارت ہندوؤں کی ایک مستند کتاب ہے۔ اس زمانے میں ان کی کوئی اور کتاب اس سے زیادہ بڑی اور معتبر نہیں ہے۔ شہنشاہ اکبر کے زمانے میں شیخ مبارک کے صاحبزادے ابوالفیض فیضی نے اس کتاب کا فارسی زبان میں ترجمہ کیا تھا اس کتاب میں ایک لاکھ سے زائد اشعار ہیں۔ ہندوؤں کے عقائد کے بارے میں اس کتاب کا خلاصہ ہم یہاں درج کرتے ہیں۔ تاکہ جو لوگ مکمل تاریخی معلومات حاصل کرنا  چاہتے ہیں وہ شروع سے آخر تک اصل حقیقت سے باخبر ہو جائیں۔ صوفی ہو ، فلسفہ دان ہو یا فقیہ ہر کوئی تخلیق دنیا کے بارے میں الگ الگ خیال رکھتا ہے ایک گروہ کی رائے دوسرے گروہ سے مختلف ہے۔ مہا بھارت میں اس قسم کے تیرے (۱۳) مختلف مشربوں کا تذکرہ ہے ، لیکن جو اہل نظر میں ان کے نزدیک ان میں سے کوئی مشرب ایسا نہیں ہے جو دنیا کی پیدائش کے بارے میں بالغ نظر اصحاب کو مطمئن کر سکے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق (جو اسلامی عقیدے سے  مختلف ہے) اس جہاں بو قلموں کی گردش چار ادوار پر ختم ہوتی ہے جو حسب ذیل ہیں۔  است یک  تریتا ایک  دوا پر یک  کل یک کل یک" کے خاتمے پر پہلا یک یعنی ”مت یک" نئے سرے سے شروع ہوتا ہے۔ اور اسی طرح یکے بعد دیگرے دوسرے یک پہلے کی طرح آتے ہیں اور "کل یک" پر خاتمہ ہوتا ہے۔ غرض اسی طرح ان چاروں بیگوں (زمانوں) کی گردش جاری رہتی ہے نہ یہ معلوم  ہوتا ہے کہ دنیا کی ابتدا کب ہوئی اور نہ انتہا کا کچھ پتہ چلتا ہے۔ میں نے ایک معتبر کتاب میں پڑھا ہے کہ ایک بار کسی شخص نے حضرت علی سے سوال کیا کہ "اے امیر المومنین حضرت آدم علیہ السلام سے تین ہزار سال قبل دنیا میں کون تھا؟ آپ نے جواب میں فرمایا آدم " اس شخص نے تین بار یہ سوال دہرایا اور حضرت علی نے تینوں بر میں جواب دیا۔ اس پر وہ شخص متعجب ہو کر خاموش ہو گیا۔ حضرت علی نے جب اس سائل کو متعجب اور خاموش دیکھا تو فرمایا۔  اگر تو تیس ہزار مرتبہ مجھ سے یہ سوال کرتا تو میں ہر بار میں جواب دیتا اس روایت سے بھی اس دنیا کی قدامت کا کچھ اندازہ ہوتا ہے اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ہندوؤں کا " تقسیم ادوار " کا عقیدہ ہر حیثیت سے ایک بے سروپا افسانہ ہے۔  بعض قدیم برہمن اہل علم کے مختلف اقوال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دنیا کی آخری حد یا انتہا معین ہے اور قیامت کا آنا لازمی ہے لیکن بعد کے ہندو عالم ان اقوال کی جو تعبیر دیتے ہیں وہ اس کے برخلاف ہے۔ یعنی ان کے نزدیک " تقسیم ادوار" کا وہی قدیم عقیدہ درست ہے۔ بہر حال دست یک" کی مدت سترہ لاکھ اٹھائیس ہزار سال (۱۷۲۸۰۰۰) کمی جاتی ہے۔ اس میک (دور) میں انسانوں کا چال چلن

Comments